تار تار

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ٹکڑے ٹکڑے، دھجی دھجی، پرزے پرزے، نہایت بوسیدہ، جھر جھرا۔  شوق جنوں ہے آمد فصل بہار ہے دامان صبر دل شدگاں تار تار ہے      ( ١٩٠٠ء، کلیات حسرت موہانی، ٣٠٠ ) ٢ - دھاگا دھاگا، لیر لیر، دھجی دھجی، ٹکڑا ٹکڑا۔  ڈھانکا ہجوم صدنگہ پاس نے مجھے یوں تار تار ہو کے میسر کفن ہوا      ( ١٨٩٥ء، دیوان راسخ دہلوی ) ٣ - [ عو ]  زیور کا کوئی حصّہ، ایک ایک چھلّا، زیور۔ "تار تار بک گیا اب کوئی زیور باقی نہیں ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'تار' کی تکرار سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٧٩٤ء میں "جنگ نامہ دو جوڑا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - [ عو ]  زیور کا کوئی حصّہ، ایک ایک چھلّا، زیور۔ "تار تار بک گیا اب کوئی زیور باقی نہیں ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات )